#HumanityDiedInSyria
مکرمی گرامی قدر حضرت مولانا... عافاک اللّٰہ !
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ،
آنگرامی کی صحّت و عافیت از بار گاہ رب المنان الٰی یوم المیزان نیک مطلوب ہے،
آج انتہائی قلق انگیز احساسات کے ساتھ، اُمّت پنے کا عالمی منظر دیکھنے کی خاطر یہ مکتوب ملت اسلامیہ ہندیہ کے دلوں میں ٹھاٹھیں مارتے طوفان کی ترجمانی کے طور پر لکھ رہا ہوں، واقعہ یہ ہیکہ اپنی کوئی بساط نہیں کہ آنگرامی کو مخاطب کریں اور جب مخاطب اپنے اساتذہ کو کرنا ہو تو الفاظ مزید لڑکھڑانے لگتے ہیں، لیکن یہ بھی صرف اسلام ہی کی خوبی ہے کہ اس نے بڑوں کو اور خلیفہ وقت کو بھی قومی احتساب و سوالات کا پابند کیا ہے جسے ہم حقِّ فاروقی بھی کہتے ہیں اسی اسلامی امتیاز کو استعمال کرتے ہوئے یہ سطریں پیش کررہاہوں، تحریر میں کہیں کوئی غلطی ہوجائے تو پیشگی معافی چاہتاہوں،
دراصل پیارے اللّٰہ نے ایک رشتہ ہمارا بنایا ایمانی اخوت کا،" انما المؤمنون اخوہ " کے اصول پر، اور آقاﷺ نے رشتہ بنایا ہمارا " جسد واحد " کے قانون پر، ہم نے آپ ہی سے سیکھا کہ ظلم کتنا ہی چھوٹا نظر آئے لیکن وہ بدترین ہوتا ہے، اسلامی رو سے وہ قابل گرفت ہوتا ہے، ہم نے قرآن سے سیکھا کہ، ہم کسی بھی حال میں ہوں ظلم کے خلاف ہر ممکن کوششیں کرنا چاہیے ، ہم نے قرآن کی پھٹکار سنی ہے جو کانوں میں مسلسل گونجتی ہے قرآن ہمیں ڈانٹتے ہوئے کہتا ہے:
"تم کو کیا ہوگیا تم مظلوموں کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ "
ہم نے اسلامی تعلیمات اور کفر میں حد فاصل ظلم کو بھی پایا ہے، اسلام ظلم و ستم اور درندگی کے خاتمے کے لیے آیا تھا اور ظالموں کو کھدیڑنے کے لیے ہمارے اسلاف نے بڑی بڑی جنگیں لڑیں جو تاریخ کا روشن نشان بن گئیں، کیونکہ قرآن نے تو صاف صاف کہہ دیا، کہ ایک
معصوم انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، قرآن کے اس فرمان سے ہی ظلم کے خلاف سرگرمیاں لازمی ہوجاتی ہیں، اور جب سنگدلانہ مظالم اہل ایمان پر ڈھائے جائیں،تو پھر قرآنی قانون کے مطابق تو
مؤمن غلام کی قدر و منزلت غیر ایمانی آزاد جسم سے زیادہ بڑھی ہوئی ہے، ایسے میں ہماری ذمہ داریاں دوچند ہوجاتی ہیں ۔
اس کے علاوہ پوری دنیا کے مؤمنین کا ایک جسم جیسا رشتہ، اللّٰہ اور نبیﷺ کا بنایا ہوا رشتہ ہم کو جھنجھوڑتا ہے کہ ہم کفریہ حد بندیوں اور سرحدی قیود کو چھوڑ چھاڑ، آئینی و ملکی پاسداری کے ساتھ جس بھی صورت میں ممکن ہو، مؤمنین کی ایمانی برادری کا منظر پیش کریں، یہ تو خالص اسلامی زاویے سے ہم پر فرض ہوتا ہے، اس پر ائمہ اسلام کی مہر بھی ہے، یقینًا بے شمار مسائل و تقاضے ہیں آنگرامی کی نظر ضرور باریکیوں پر ہوں گی، ملکی و سماجی مسائل کا پٹارا ہوگا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عوامی بداعمالیوں کی بدولت ہو، لیکن کیا ان مظالم اور خون کی بہتی ندیوں پر خموشی خواص کی بداعمالیوں میں شمار نہیں ہوگی ؟
ہم دیکھتے ہیں کہ قریبی اسلاف حضرت شیخ الہندؒ و شیخ الاسلام ؒ حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ؒ و حضرت مولانا اسعد مدنی ؒ حضرت مولانا شبلی نعمانی ؒ حضرت مولانا علی میاں ندویؒ یہ سب جہاں انگریزی و استبدادی سامراج سے لڑتے تھے وہیں ہر ہر اسلامی ایمانی قضیے میں اپنا، مؤمنانہ فرض ادا کرتے تھے وہ کبھی بھی عالمی مظالم پر خموش نہیں بیٹھے،
یہ سب اب ہمارے دل میں یوں بھی کچوکے لگاتے ہیں کہ اپنی قیادت کے ہی حکم پر ہم نے صنم کدوں پر مظالم کے خلاف آوازیں اٹھائی ہیں، ایک نہیں انیک دفعہ ہم عام لوگوں نے اسی بھارت کی سڑکوں اور میدانوں کو لندن، یوروپ، فرانس وغیرہ میں پیش آنے والے ظلم کے واقعات کے خلاف بھرا ہے، ہمارے عظیم فقہاء نے دہشت گردی کے خلاف اور جہاد جیسے عظیم فریضے کو غلط معنی کر استعمال کرنے کے نام پر پورا پورا لٹریچر تیار کردیا ہے، ہم مچل رہے ہیں صرف یہ دیکھ دیکھ کر کہ یہ ساری سرگرمیاں اس وقت ٹھپ پڑ جاتی ہیں جب مدّعی مسلمان ہوتا ہے، اس کا تازہ منظرنامہ ہے شام کے لاکھوں شہدا جن کی نعشوں پر مؤمنوں کی ایمانی اخوت کے چیتھڑے اڑائے جارہےہیں، لاکھوں بے سہارا، ستم رسیدہ ظلم مسلسل کے شکار مؤمن عالمی ایمانی برادری کی طرف رحم کی بھیک مانگتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، ہماری ایمانی بہنوں کی عزتیں کھلونا بن چکی ہیں، ایسی صورتحال میں ایمانی برادری کے رہنماﺅں کی خموشی کیونکر جائز ہوسکتی ہے؟ ہم ہر ملکی معاملے میں چاہے وہ سیکولرزم و تحفظ جمہوریت جیسا حساس مسئلہ ہو یا الیکشن جیسا نازک موقع آپ ہی سے سنتے ہیں اور ملک میں آپ ہی سے راہنمائی چاہتے ہیں، اور لیتے بھی ہیں، خدارا بتائیے ہم اس لق و دق صحرا میں جائیں تو کہاں جائیں؟ کچھ تو راہنمائی فرمائیں، اسلامی قیادت کا شیوہ و شان اس کا بے خوف موقف اور بے لاگ ملی اسٹینڈ ہوتے ہیں ہم اسی منظر کو دیکھنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خمیر میں بڑوں کے پیچھے چلنے کا جذبہ تو طبعی و فطری ہے ۔
مؤدبانہ التماس ہیکہ،
غوطہ میں ہورہے خونریز مظالم کے خلاف ملکی سطح پر قوم کی رہنمائی فرماتے ہوئے دباؤ بنانے کی کوششیں شروع فرمائیں، تحریک خلافت ہمارے شاندار ماضی کا سنہرا باب ہے، قوم آج بھی ایسی تحریکات کے لیے پرعزم ہے، بس، قیادت پکارے ' قوم ساتھ ہے۔
آپ کی ماتحتی میں جینے والا ایک مؤمن:
؞ سمیع اللّٰہ خان ؞
جنرل سکریٹری: کاروان امن و انصاف
ksamikhann@gmail.com

No comments
Post a Comment